میسور:30/ دسمبر(ایس اؤنیوز ) دستور کے متعلق توہین آمیز بیان دینے والے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے اور مدھوسودھن کواب خود ان ہی کی پارٹی کے لیڈران بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس تعلق سے بی جے پی کے ریاستی نائب صدر و سابق وزیر شری نواس پرساد نے آننت کمار ہیگڈے کو انتہا پسند، متشدد اور احمق قرار دیتے ہوئے ان کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
میسورکے نجی ہوٹل میں سنیچر کو پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے پرساد نے کہاکہ دستور کے متعلق کسی کو بھی توہین آمیز بات نہیں کہنی چاہئے۔ دستور ہندوستانیوں کی سب سے اعلیٰ کتاب ہے،ایسی کتاب کے متعلق کوئی بات کرتاہے تو خاموش رہنا ممکن نہیں ہونے کی بات کہتے ہوئے انہوں نے ہیگڈے کے ریمارک پر اپنی سخت ناراضگی کااظہار کیا۔ پرساد نے کہا کہ اننت کمار ہیگڈے نے دستور کے متعلق بے تکے بیانات دے کر نریندر مودی کی حکومت کی بے عزتی کی ہے۔
پرساد نے کہا کہ ایک چائے بیچنے والے کو ملک کا وزیر اعظم بننے کا اگر موقع فراہم ہوا ہے تو اس کے لئے ہمارا دستور ہی اہم سبب ہے۔وزیراعظم مودی نے بھی اس بات کو قبول کیا ہے اور انہوں نے بھی دستور ہی کو اعلیٰ کتاب ماناہے، لیکن 5مرتبہ رکن پارلیمان بنے والے ہیگڈے کو دستور کا سمجھ میں نہیں آنا ایک شرمناک بات ہے۔
نائب صدر نے کہاکہ ایک ذمہ دار عہدے پر فائز شخص کو دستور کے تعلق سے معمولی علم بھی نہیں ہے تو یہ نہایت تشویش کی بات ہے۔ انہوں نے ہیگڈے سے پوچھا کہ وہ بتائے کہ سکیولرزم کا مطلب کیا ہے ؟ پرساد نے کہا کہ ہیگڈے کے بیانات کی وجہ سےہی عوام سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔
بی جے پی کے ودھان پریشد کےسابق رکن گو ، مدھوسودھن کے متعلق پرساد نے کہاکہ مدھوسودھن دو مرتبہ ایم ایل سی منتخب ہوئے ہیں اس کے باوجود ان کی عقل نہیں بڑھی ہے،مدھوسودھن سب کو ’’گو ‘‘ کہتے رہتے ہیں،’’کم ‘‘نہیں کہتے۔ وہ غیر ضروری طورپر دستور کے متعلق بات کرتا رہتاہے، اس کو دستور کی اہمیت نہیں معلوم، سڑکوں پر دستور پر اظہار خیال کرنے پر اس کو شرم آنی چاہئے۔ اور پارٹی ہائی کمان سے مطالبہ کیا کہ ان دونوں کےخلاف مناسب کارروائی کریں۔ وہیں انہوں نے مددھوسودھن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہاکہ مدھوسودھن دستور کے متعلق بے تکی باتیں کہہ کر اس کا دفاع کرنے پر شرم آنی چاہئے۔
شری نواس پرساد نے کہاکہ میرے جذبات سے مت کھیلو، ہمارے لئے امبیڈکر اہمیت رکھتے ہیں کوئی سیاسی پارٹی اہمیت نہیں رکھتی ۔ کوئی بھی پارٹی ہو وہ اپنی جگہ ۔ مودی ، امیت شاہ ، یڈیورپا ہمارے سیاسی لیڈران ہیں جب کہ امبیڈکر ہمارے روحانی پیشوا ہیں۔
پریس کانفرنس میں شری نواس پرسا د نے اُڈپی کے پیجاورمٹھ سوامی جی کے خلاف بھی گرم ہوتے ہوئے کہاکہ سوامی جی آپ اپنے مٹھ کے تعلق سے بات کریں، دستور کے متعلق کیوں باتیں کرتے ہو، کیا آپ کو ملک کے بارے میں معلومات ہیں۔ دھرم سنسد میں تم نے جوکہا ہے کیا وہ صحیح ہے؟ کہتے ہوئے پیجاور سوامی جی کے خلاف گرم ہوئے ۔
بی جے پی کے نائب صدر نے کہاکہ ریاستی وزیر اعلیٰ سدرامیا کو متحدہ کرناٹکا کے متعلق کچھ بھی جانکاری نہیں ہے اب جدید کرناٹکا کی یاتراپر چلے ہیں۔ سدرامیا سینہ تان کر چامنڈیشوری حلقہ سے مقابلہ کرنے جارہے ہیں، سدرامیا کو شکست دینا ہی میرا مقصد ہے، انہوں نے زور دے کر کہاکہ کسی حال میں بھی میں انتخاب نہیں لڑونگا۔ انہوں نے بتایا کہ اپنی سیاسی زندگی کو لے کر ایک کتاب لکھ رہے ہیں، بہت جلد اس کو شائع کرنے کی جانکاری دی۔ پریس کانفرنس میں سابق لوک سبھا ممبر کاگلواڑ شیونا، ودھان پریشد کے سابق ممبر سد راجو، موہن کمار، بسویگوڈا، راجیندر ، کمبرہلی شیونا وغیرہ موجود تھے۔